امریکا ایران کشیدگی میں فوجی کارروائی کے خدشات

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران محدود لیکن طاقتور فوجی کارروائی کے امکانات زیر غور ہیں۔ امریکی ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا اور موجودہ تعطل کو ختم کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی کمان سینٹرل کمانڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف آپریشنل آپشنز پیش کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ ان میں ایران کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا اور جوہری مواد کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی فورسز کے استعمال جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ساتھ ہی ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔
کشیدگی اب صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہی بلکہ بحری اور اقتصادی محاذ پر بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد صورتحال خاص طور پر حساس ہے جہاں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس تناؤ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ٹیکساس میں H-1B ویزا فراڈ تحقیقات، ٹیک کمپنیوں کیخلاف کارروائی
دوسری جانب ایران نے امریکا کو ایک تجویز دی تھی جس میں بحری ناکہ بندی ختم کرنے، آبنائے ہرمز کو کھولنے اور مستقل جنگ بندی شامل تھی، تاہم امریکا نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا۔ امریکی مؤقف کے مطابق ایران کو پہلے اپنے جوہری پروگرام پر واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔
ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ بھی طے پایا تھا جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا جبکہ اس کے بدلے میں پابندیاں نرم کی جانی تھیں، لیکن بعد میں اس معاہدے پر اختلافات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو خطے میں بڑے تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں














